13

کرے کوئی بھرے کوئی

تحریر: مختار احمد
گزشتہ سے پیوستہ
اگر کسی گھر میں نشہ کرنے والا ہو تو وہ گھر دور دور تک بدنام ہوجاتا ہے- ملنے جلنے والے تو میل جول رکھنے سے کتراتے ہی ہیں مگر خاندان کے دوسرے افراد رشتے داریاں تک ختم کردیتے ہیں-لوگوں کو مختلف قسم کے جان لیوا نشوں پر لگا کر دولت کمانے والے یہ نہیں سوچتے کہ وہ کام جس سے خلق خدا کو ذرا سا بھی فائدہ پہنچے تو ایسا کام کرنے والے کو قیامت تک اجر و ثواب ملتا رہے گا- اسی طرح ان کے منشیات فروشی کے اس عمل سے اگر کوئی شخص تباہ ہوتا ہے تو اس گناہ کا وبال بھی قیامت تک ان کے سروں پر رہے گا-دوسرے جرائم پیشہ افراد کی طرح یہ تینوں بھی اس سہل آمدنی کے متعلق سوچ کر خوش تھے- وہ بغیر کسی محنت اور مشقت کے زندگی کے تمام عیش اٹھانا چاہتے تھے اور اس آسان کام میں انھیں اس کی امید ہو چلی تھی-برے کام کا برا انجام- برے انجام تک پہنچنے میں کبھی دیر ہوجاتی ہے اور کبھی اس کا سامنا جلد بھی کرنا پڑ جاتا ہے- آصف اور وہاب کو ٹریننگ دینے کے لیے ایک روز رحمت انھیں بھی سپلائی پر لے گیا- یہ شہر کا ایک مہنگا کالج تھا، اس میں کروڑ پتی ماں باپ کے نور نظر تعلیم حاصل کرتے تھے- اسی کالج کے چند نا عاقبت اندیش لڑکوں نے ایڈونچر کے نام پر آئیس جیسے موذی نشے کو شروع کیا تھا اور اب اس کے عادی ہوگئے تھے- انھیں جیب خرچ کے نام پر گھر والوں سے روزانہ ایک معقول رقم ملتی تھی- وہ اس رقم کو اس نشے پر خرچ کردیتے تھے-یہ تینوں اپنا تھیلا لے کر کالج کے پیچھے گھنی جھاڑیوں کے درمیان ایک درخت کے نیچے کھڑے ہوگئے- رحمت نے موبائل پر کسی کا نمبر ملا کر اطلاع دی کہ مال آگیا ہے- فون بند کر کے وہ چوکنی نظروں سے ارد گرد کا جائزہ لینے لگا- یہ پہلی واردات تھی اس لیے آصف اور وہاب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں- ان کی گھبراہٹ دیکھ کر رحمت مسکرانے لگا اور انھیں تسلی دینے کے لیے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سامنے سے دو لڑکے آتے نظر آئے- دونوں لمبے قد کے ، دبلے پتلے اور گورے چٹے تھے اور شکل و صورت سے نہایت بھولے بھالے اور معصوم لگ رہے تھے-
“ارے بھئی- کل تم کہاں غائب ہوگئے تھے- بڑا انتظار کروایا-” ان میں سے ایک لڑکے نے آصف اور وہاب پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر کہا-“بہت سختی ہو گئی ہے- مال ہی نہیں آرہا- آج بڑی مشکل سے انتظام کیا ہے- سختی کی وجہ سے اب پیکٹ بھی پانچ سو روپے کا ہوگیا ہے- احتیاط سے استعمال کرو ایسا نہ ہو کہ چند دنوں کے لیے یہ ملے ہی نہ-“”خدا غارت کرے ان لوگوں کو- جن چیزوں پر پابندی لگانا چاہیے ان پر تو لگاتے نہیں، ساری سختی یہیں دکھا رہے ہیں-” ایک لڑکے نے پیسے نکال کر اسے دیے- “مجھے تو چار پیکٹ دے دو- تم نے بہت بری خبر سنائی ہے- میں تو بہت دیکھ دیکھ کر استعمال کروں گا-“دوسرے لڑکے نے تین پیکٹ خریدے- ابھی یہ سودا تکمیل کے مراحل تک نہ پہنچا تھا کہ جھاڑیوں میں ہلچل سی مچی اور سادے کپڑوں میں ملبوس کسی ایجنسی کے چند آدمیوں نے انھیں گھیرے میں لے لیا- ان کے ہاتھوں میں پستول دبے ہوئے تھے- ہر جرائم پیشہ فرد کی طرح یہ تینوں بھی بزدل تھے- ان کے چہرے فق ہوگئے اور پستولیں دیکھ کر انہوں نے ہاتھ کھڑے کردیے-
وہ دونوں لڑکے وہاں سے بھاگ گئے- سادے لباس میں ملبوس دو آدمی ان کے پیچھے بھاگنے ہی والے تھے کہ ان کے افسر نے انھیں روک لیا اور کہا- “یہ دونوں اسی کالج میں پڑھتے ہیں- انہیں اور ان جیسے دوسرے لڑکوں کا ریکارڈ ہمارے پاس ہے- انہیں ہم بعد میں دیکھ لیں گے-“ان تینوں کے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں- ان کے ساتھ میڈیا والوں کی گاڑی بھی آئی تھی- انہوں نے تینوں کی گرفتاری کی ویڈیو بھی بنا لی تھی- آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ ساری کاروائی بریکنگ نیوز کے طور پر مختلف چینلوں سے نشر ہوگئی-
آصف کے پکڑے جانے کی خبر گھر پہنچی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی- اس کی جوان بہن چیخ چیخ کر رونے لگی- چھوٹا بھائی سہم گیا- ماں آصف سے بہت زیادہ محبّت کرتی تھی اور اسے بڑھاپے کا سہارا سمجھتی تھی- یہ خبر اسے ملی تو اسے دل کا دورہ پڑ گیا- آصف کا باپ تو گھر پر تھا نہیں، کام پر گیا ہوا تھا اس لیے محلے میں سے کسی نے ترس کھا کر ایمبولنس کے لیے فون کردیا اور اسے ہسپتال پہنچایا- شام تک یہ بات دور دور تک پھیل گئی تھی کہ ایک لڑکا منشیات فروشی کے کیس میں پکڑا گیا تو اس کی ماں کو دل کا دورہ پڑ گیا-یہ بات آصف کے باپ کی مل تک بھی پہنچ گئی تھی- باپ پر تو جیسے بجلی گرپڑی- مارے شرمندگی کے اس سے بات تک نہیں ہو رہی تھی- پھر بیوی کی طبیعت خرابی نے مزید ہوش اڑا دیے- سب لوگ افسوس کر رہے تھے مگر ایک دوسرے سے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر ماں باپ کی غفلت نہ ہوتی اور تربیت اچھی دیتے تو ان کا لڑکا کبھی بھی نہیں بگڑتا-
آصف کا باپ چھٹی لینے کے لیے انچارج کے پاس گیا تاکہ اس سے اجازت لے کر بیوی کے پاس ہسپتال جائے- اسے دیکھ کر انچارج نے کہا- “ٹھیک ہے تم جاؤ- اور سنو- اپنے اسی لڑکے کے لیے تم نوکری کے لیے کہتے تھے- وہ یہاں آجاتا تو جانے کیا گل کھلاتا-” اس کی یہ بات سن کر آصف کا باپ شرم سے زمین میں گڑ گیا-اگلے چند روز میں ایک اور بری بات ہوگئی- آصف کی بہن کے سسرال سے پیغام آگیا تھا- انہوں نے اس شادی سے انکار کردیا تھا- ان کا کہنا تھا کہ وہ شریف لوگ ہیں، ایسے خاندان میں شادی نہیں کرسکتے جن کا لڑکا منشیات فروش ہو-
آصف کی اس حرکت کی وجہ سے ملنے جلنے والے ان سے کترانے لگے تھے- سگے رشتے داروں نے بھی ان سے تعلقات ختم کردئیے تھے- اس کا چھوٹا بھائی اسکول جاتا تو دوسرے لڑکے اس پر طنز کرتے اور اس واقعہ کا حوالہ دے کر اسے چڑاتے تھے-
کم و بیش ایسے ہی حالات سے رحمت اور وہاب کے گھر والوں کو بھی گزرنا پڑا تھا-
اگر آصف دوسرے اچھے لڑکوں کی طرح اپنی تعلیم مکمل کرلیتا تو اسے باپ کی مل میں نوکری مل جاتی- اس کی نوکری لگ جانے سے گھر میں زیادہ پیسے آتے اور اس کی وہ ماں جس نے زندگی بھر تکلیفیں اٹھائی تھیں، اطمینان کا سانس لیتی اور خوش ہوجاتی- اس کی بہن کی شادی نہ ٹوٹتی بلکہ اس کے انتظامات بھی بہتر طریقے سے ہوجاتے – اس کا چھوٹا بھائی بھی بے فکری سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتا تھا- مگر اس نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا تھا جس پر چل کر آج تک کسی کو کامیابی نہیں ملی تھی- اس سارے معاملے میں اس کے گھر والوں کا کوئی قصور نہیں تھا مگر وہ بے چارے کرے کوئی بھرے کوئی والی کہاوت کی مثال بن گئے تھے- آصف کی خود غرضی، غیر ذمہ داری اور لالچ نے انھیں کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا تھا-ایسا ہی سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جن کے گھر کا کوئی فرد جرائم کی راہ پر چل نکلے- جرائم کی راہ اختیار کرنے والے ایسے لوگ اگر ذرا سی بھی عقل سے کام لیں اور کسی بھی غیر قانونی کام سے خود کو دور رکھیں تو ان کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو ایسے ذلت بھرے عذاب سے نہ گزرنا پڑے- (ختم شد)