40

بلوچستان:بارش اوربرف باری نے تباہی مچادی 9افراد جاں بحق(کوئٹہ میں سنوایمرجنسی لگانے کافیصلہ ،ایرانی بلوچستان میں سیلابی صورتحال)

عوام سے غیر ضروری سفر سے گریزکریں،وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ این ڈی ایم اے کو بلوچستان میں تعاون کا کہیں، سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہرممکن ریلیف پہنچا نے کیلئے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہےوزیراعلیٰ جام کمال

ضلع پشین کے علاقے بوستان میں مکان کی چھت گرنے سے 2بچے جاںبحق ہوگئے،ببرشورمیں بھی مکان کی چھت گرنےسے خاتون جبکہ ژوب کے علاقے شہاب زئی میں مکان کی چھت گرنے سے 6افراد جاںبحق اور متعددزخمی ہوگئے
بلوچستان بھر میں شدید بارش اور برفباری کے باعث متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، کوئٹہ چمن ،کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ پنجاب شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہوگئی ،ضلع کیچ میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی اوماڑہ میں ساحل پرکھڑی کشتیوں کونقصانات کاسامنا
کوئٹہ +تربت +اورماڑہ (این این آئی+بیورورپورٹس) بلوچستان بھر میں شدید بارش اور برفباری کے باعث متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، ضلع پشین میں دومکانات کی چھتیں گرنے سے بچوں سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ،ژوب میں مکان کی چھت گرنے سے خواتین اوربچوں سمیت6افراد جاں بحق ہوگئے۔ لیویز کے مطابق اتوار کو ژوب کے علاقے کلی شہاب زئی میں برف باری کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 3خواتین اور 3بچوں جاں بحق ہوگئے لیویز نے نعشوںکو ملبے تلے سے نکال کرہسپتال منتقل کردیا جہاں نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئیںجاں بحق ہونے والوں کا تعلق قلعہ سیف اللہ سے بتایا جاتا ہے۔انتظامیہ کی شہریوں کو کوئٹہ ،لکپاس، کولپور ، چاغی ، کچلاک ، بوستان ، کوژک ٹاپ ،کان مہترزئی ، زیارت، ہرنائی کی جانب سفر نہ کرنے کی ہدایت، کوئٹہ چمن ،کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ پنجاب شاہراہوں پر ٹریفک معطل کردی گئی تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو بلوچستان بھر میں شروع ہونے والا بارش اور برفباری کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا، شدید برفباری کی وجہ سے ضلع پشین کے علاقے بوستان میں چوکال کے مقام پر مکان کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ تین شدیدز خمی ہوگئے جبکہ پشین ہی کے علاقے برشور میں زرخصار میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہوگئے لیویز نے لاش کو تحویل میں لیکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں ضروری کاروائی کے بعد لاشیں ورثاءکے حوالے کردی گئیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ہفتہ اور اتوار کو کوئٹہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، قلات، ہرنائی ، پشین ،مستونگ میں شدید برفباری کے باعث مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مطابق کوئٹہ زیارت روڈ لواری ٹاپ کے مقام اور کچلاک میں سملی کے مقام پربند ہونے سے ٹرےفک معطل ہوگئی ، کوئٹہ سے کراچی اور پنجاب جانے والے ٹرانسپورٹ کو کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سے پنجاب کی جانب سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پولیس چیک پوسٹوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کوئٹہ سے زیارت، قلعہ سیف اللہ کی جانب جانے والے سیاحوں کو بھی شہر سے باہر نہ جانے دیا جائے انہوں نے بتایا کہ یہ تمام اقدامات موسم کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر کئے گئے ہیں ،ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے مطابق ہرنائی میں برفباری سے خوست ، زرد آلو، چھپ کے مقامات پر ہرنائی کوئٹہ اور ہرنائی سنجاوی روڈ بلاک ہوگئے ہیں سڑکوں کو بحال کرنے کے لئے ہیوی مشنری کی مدد لی جارہی ہے ،،چوتیر کے مقا م پر برفباری سے زیارت سنجاوری روڈ بھی بلاک ہوگیا، کوئٹہ کے داخلی مقام لکپاس اور ضلع مستونگ کے مقامات پر کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سبی شاہراہوں پر گزشتہ روز سے جاری شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر ٹریفک معطل کردی گئی ، سڑکوں کی بحالی کے لئے پی ڈی ایم اے ، ایف ڈبلیواور اور این ایچ اے ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ آپریشن شروع کردیا، تاہم موسم کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو نوہسار کانک روٹ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ، کچھی کے علاقے کولپور میں بھی برفباری کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی ، اسی طرح قلعہ عبداللہ میں شدید برفباری کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ کوژک ٹاپ کے مقام پر مکمل طور پر بند ہوگئی ، انتظامیہ نے سڑک بحال کرنے کے لئے اقدامات شروع کردئےے تاہم رات گئے تک شاہراہ پر ٹریفک بحال نہ ہوسکی ،بلوچستان کے ضلع گوادر، کیچ، چاغی، واشک ، نوشکی میں گزشتہ دو روز سے جاری شدید بارشوں نے تباہی مچادی بارشوں کی وجہ سے اورماڑہ میں کئی ماہگیروں کی کشتیاںٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوگئیں ضلع کیچ میں تیز بارشوں سے دریا اور ندی نالوں میں طغیان سے مند میں سیلابی ریلہ آبادیوں میں داخل ہوگیا جبکہ زبیدہ جلال روڈ کو بھی شدید نقصان پہنچا ،دریائے نہنگ میں اونچے درجے کے سیلاب سے کھجور کی باغات کو شدید نقصان پہنچا، بلیدہ میں سیلابی ریلے سے کئی دیہات زیر آب آنے سے گندم کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، بلیدہ کے علاقے، سلو، میناز اور بٹ کےلوگوں میں لوگوں نے محفوظ مقامات پر نقل مقانی شروع کردی ،تفتان میں ہامون ماشکیل بگ ،عیسے طاہر ،کاچر دوریک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری سے درجنوں تیل بردار اور مسافر گاڑیوں میں کئی افراد پھنس گئے جنہیں ریسکیو کرنے کے لئے شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوشش شروع کردیں جبکہ متعد د علاقوں تک رسائی کے لئے انتظامیہ نے حکومت بلوچستان سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ایف سی نے برف اور بارش میں پھنسے ہوئے مسافروں کے لئے امدادی کیمپ قائم اور زیارت،مندے ٹک،اور گھاٹی پل میں عارضی پناہ گاہیں قائم کردیں ، جہاں مسافروں کو کھانا بھی دیا جارہا ہےجبکہ ایرانی بلوچستان سستان میں طوفانی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیداہوگئی علاوہ اذیںبلوچستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے میں سنو ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرلیا ۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پی ڈی ایم اے بلوچستان عمران زرکون کے مطابق صوبے میں سنو ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ برف سے ڈھکی شاہراہوں کو کھولنے کی کوششیں جاری ہیں، بھاری مشینری پہنچادی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق کان مہترزئی میں برف میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کے لیے کرین بھجوادی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برفباری اور بارشوں کے بعد کی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیںادھروزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کردی ۔پی ڈی ایم اے بلوچستان کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں جام کمال نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ این ڈی ایم اے کو بلوچستان میں تعاون کا کہیں ۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے کئی اضلاع میں غیر متوقع طور زیادہ برف باری اور بارشیں ہوئی ہیں، سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہرممکن ریلیف پہنچا نے کیلئے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہاکہ پچھلے برسوں کی نسبت اس مرتبہ کافی زیادہ برف باری ہوئی ہے ،کان مترزئی ، توبہ کاکڑی ،لک پاس ،بولان میں شدید برف باری سے قومی شاہراہیں بند ہوگئی تھیں جنہیں کھلوایا جارہا ہے ،صوبے کے ان علاقوں میں تمام صوبائی محکموں کی مشینری کام کررہی ہے۔جام کمال نے یہ بھی کہاکہ برف باری والے علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست بھی کیا ہے ،دیگر امدادی اشیا کی ضرورت ہوئی تو مقامی سطح پر خریدار کی جائے گی ۔ان کا کہنا تھاکہ مکران کے علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلے آرہے ہیں ،نوکنڈی کے علاقے میں سیلابی ریلوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے آرمی سے ہیلی کاپٹرکیلئے رابطہ کیا ہے ۔وزیر اعلٰی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ موجودہ برف باری اور بارشوں سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا، چند واقعات ضرور ہوئے ہیں ،برف باری سے متاثرہ علاقوں میں برف ہٹانے کیلئے خریدی گئی مشینری کراچی پہنچ گئی ہے۔