38

غیرت کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نکلے!

تحریر: اے آر طارق
فواد چوہدری بھی نجانے کیا ’’عجب ‘‘چیز ہے جو نجانے قدرت نے تحریک انصاف کوہی کیوں تفویض کی ہے ۔دوسروں کو اِس ’’نعمت ربی‘‘سے نجانے کن مصلحتوں کے باعث محروم رکھایاشایدکہ اپوزیشن کی کسی نیکی کے طفیل اِن کو عطا نہیں ہوئے اوریہ کہ تحریک انصاف کے نجانے کن خراب کرموں کا عمل دخل ہے کہ ان کے حصے میں آگئے ۔میرا تو یہی کہناہے کہ شاید خداجن سے ناراض ہوتا ہے یا جنہیں ذلیل کروانا ہو،انہیں فواد چوہدری دے دیتا ہے۔ فواد چوہدری جتنے قابل ہیں اتنے نظر نہیں آتے ہیں۔جتنے معاملہ فہم بنتے ہیں اُتنے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔اس لیے کہ فواد چوہدری کا ہرکام، طور طریقہ ا وراندازِگفتگوباعث شرمندگی وندامت اورسر جھکانے کا سبب بنتا ہے۔ اِن کا طرزعمل اور گفتگو کسی بھی طرح سے یہ ثابت نہیں کرتی کہ وہ پڑھے لکھے،باشعور،سنجیدہ یا جہاندیدہ شخص ہیںوہ الگ بات ہے کہ تعلیمی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔قانون دان بھی ہیں اوربطور وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ اکثر سمجھ دار اور حکومتی اعلیٰ منصب پر بیٹھے ہونے کے باوجودبات اورکام ایک بھی ڈھنگ کا نہیں کرپاتے ہیں۔ گفتگو میں پائیداری اور پختگی نام کو بھی نہیں ہے ۔کسی بھی خود سے رونما ہوجانے والے واقعے کو ثبوتوں اور دلائل سے غلط ثابت کرنے کی طرف نہیں جاتے بلکہ اپنی کمزوریوں کے سبب اُس پر دوسروں سے لڑنے جھگڑنے پر اُترآتے ہیں۔ اکثر خود کو پیش آجانے والے معاملات کو ہاتھا پائی تک لے جاتے ہیں۔غلطیوں پر غلطیاں کرتے جاتے ہیں مگر سدھرنے اور اپنی اصلاح کرنے کی طرف نہیں آتے ہیں۔ غلط کام اور فعل بھی سرانجام دیتے ہیں اور پھر اُس کے منظر عام پر آنے سے بھی گھبراتے ہیں۔افراد پر تنقید وتبصرہ بھی کرتے ہیں اور کہیں سے شور اُٹھے یہ بھی برداشت نہیں کرتے ہیں۔اپنی ہی فرماتے ہیں۔ دوسروں کی کم کم ہی سنتے ہیںاگر اِن کو کوئی اپنی بات سمجھائے یا غلطی کا احساس دلائے تو وزیر والا رعب جھاڑتے آئو دیکھا نہ تائو اگلے پر پل پڑتے ہیں۔اِس سلسلے میں انتہائی نامعقول ثابت ہوئے ہیں۔اپنے قول وفعل میں موجود تضاد کی وجہ سے اکثر ہر تھاں تے ذلیل و رسوا ہوئے دوسروں کو تماشا بناتے خود ایک کھیڈبن جاتے ہیںجو کہ ساری کی ساری اِن کی کم عقلی پر مبنی ہوتی ہے۔دوسروں کی محفلوں میں جاکر اپنے ارمان کا تو خون کرتے ہی ہیں دوسروں کی خوشیوں اور ہنستے بستے ماحول کابھی رنگ پھیکا کردیتے ہیں۔ایسی لڑائی ڈالتے ہیں کہ اپنا اور میزبان محفل کا سارا بھرم اور سکون غارت کرکے رکھ دیتے ہیں ۔اِنہیں اپنے سے اختلاف کرنے والوںکو سرے محفل ہجوم میں تھپڑ مارنے کی ایسی گندی لت پڑچکی ہے کہ ظالم ساتھ چھوڑنے کو نہیں آتی ہے۔اپنی اِس عادت کے باعث غیروں کے ساتھ ساتھ حلقہ یاراں میں بے عزت سے ہوئے پڑے ہیں۔اکثر اِس گھمنڈ میں کہ میں وزیر ہوںہر جگہ ہر محفل میں ہنگامہ آرائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اپنی وزارت کے طاقت کے زعم میں مبتلا ہوئے ہر طبقہ فکر کے افراد سے مڈبھیڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ایسے لوگ عوام کے ذریعے سے وزارت کی کرسی پر پہنچتے ہیں۔جب بہت زیادہ ظلم وستم ڈھانے لگتے ہیں اور ہر طرف کہرام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو جب اپنے ظلم وستم کے سبب دوسروں کی نظروں یا اقتدار و اختیار کے منصب سے گرتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کو سہارا دینے والا کوئی نظرنہیں آتا۔ایسے صاحب اقتدار لوگ اکثر خود سہاروں کی تلاش میں ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کا سفر طے کرتے کھجل نظر آتے ہیں۔انتہائی کمزور مگر بے بس افراد کے لیے ننگی تلوار جیسے۔طاقتور لوگوں کے گھروں کے سامنے خود بچھے ہوئے ہوتے ہیں اور کمزور کو اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے۔اکثر اپنی کرتوتوں کے باعث ننگے اور حال و بے حال ہوتے ہیںمگر بڑی ہمت نکال کر’’ سب اچھا‘‘ کا ناٹک کر رہے ہوتے ہیں۔بگڑے ہوئے رئیس زادوں کی بگڑی ہوئی اُولاد،بہت مجبور ،لاچار بے بس ،قابل رحم حالت میںاکژایسے ہی کاموں میں ملوث پائی جاتی ہے ۔جس طرف اشارہ اینکرپرسن مبشر لقمان نے کیا ہے۔دوسرے کاکچھ نہ کرسکنے پر اُسے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔صریحا گہنگار مگر انتہائی ظالم رُوپ والے ہوتے ہیں ایسے سفاک لوگ جو اقتدار و اختیار پاکر اپنی اصلاح نہیں کرتے ۔توبہ کرکے اچھے کی طرف نہیں آتے مگر لڑبھڑ جاتے ہیں پوری ڈھٹائی کے ساتھ۔ایسے لوگ اکثر خسارے میں ہی جاتے ہیں۔اکثر اپنی اِنہی عادات بد کے باعث ہر اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمت ربی سے یکسر محروم ہوجاتے ہیںمگر سمجھتے ذراسا بھی نہیں۔اگر ملک عزیز پاکستان میں ریاست مدینہ والا نظام ہوتا اور اسلام کے سنہری اصولوں کی پاسداری ہوتی تو آج ایسے وزیر اپنی اِن حرکتوں پر قصہ پارینہ بن چکے ہوتے اور دوسروں کی عزت و آبرو کو خوامخواہ اچھالنے والے صحافی سزاکے حق دار۔وہ تو اللہ دونوں کا بھلاکرے کہ ملک میں ریاست مدینہ والا نظام نہیں اور نہ ویسے فیصلے ۔دونوں ہی کی ساری انگلیاں گھی میں ہیںمکمل اور ساری ڈوبی ہوئی۔یہ ملک پاکستان اصلاح کرنے سے زیادہ ہم نے اِنہی ’’دمن چھینوں‘‘کے لیے ہی رکھا ہوا ہے جنھوں نے اِسے ایک پرامن اسلامی فلاحی ریاست کے لیے بنایا تھا وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیںاِس لیے یہ ملک فواد چوہدری اورمبشر لقمان جیسوں کی ہی جاگیر بن کے رہ گیا ہے ۔جہاں آپ کا جو جی میں آئے کہتے ، بولتے اورکرتے ر ہو ۔کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ریاست ویسے ہی لولی لنگڑی اور سہاروں کی محتاج ہے۔افسوس ایسے لوگوں کے سہاروں اور بیساکھیوں پر کھڑی ہے جو ملک عزیز میں اِس طرح کے عزت ووقار کے منافی کھیل تماشے کے عادی اورشیدائی ہوتے ہیں۔خدا خیر کرے ملک کے ذہین وفطین دماغ کس طرف چل پڑے ہیں۔ کس بات یا معاملے پر آپس میںباہم گھتم گھتا ہے ۔آخر تو کوئی بات ضرور ہے جس کی پردہ داری مقصود ہے۔اصل معاملہ ہے کیا۔کون سچا کون جھوٹا ۔معاملے کی صحیح تہہ تک پہنچ کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنا ہوگا۔اگر آج اِس معاملے کو ایسے ہی چھوڑ دیا تو کل کلاں بہت بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے جو پھر ہمارا دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور ہماری رہی سہی تہذیب و ثقافت ، بھائی چارے ،رواداری اورعزت کے پلے کچھ بھی نہیں چھوڑے گا۔اِس معاملے کی سنگینی کو ریاستی سطح پر نظر انداز کرنا بہت بڑی حماقت اور بے وقوفی والی بات ہونگی۔جس کا رزلٹ مستقبل میں اچھا نہ نکلے گا۔اِس طرح کے معاملات کے کنٹرول اور حتمی حل کے لیے کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچنا ضروری ہے اوریہی بہتری کا راستہ ہے ۔اِس کے علاوہ ہر راستہ انتشار و فساد کی جانب ہی بڑھتا ہوانظر آتا ہے۔