6

جاپان: جدید ٹیکنالوجی اورمحنت کشوں کا گڑھ

جاپان سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ وہ ملک خوبصورت ترین، حسین امتزاج کا مالک، اصول وضوابط کا محور، محنت کشوں کا گڑھ، تہذیب وثقافت کا مظہر، انسانیت کا علمبردار ہے، توغلط نہ ہوگا۔

جاپان سے متعلق دورے سے قبل بہت سی باتیں پہلے سے معلوم تھیں، جن میں سب سے زیادہ ٹیکنالوجی سے متعلق علم تھا کہ وہ ’ہائی ٹیکنالوجی‘ والا ملک ہے اور اس ٹیکنالوجی کا استعمال ان کےلیے بہت ہی عام ہے یا اس بات کا بھی علم تھا ہی کہ جاپانی صفائی ستھرائی میں بہت آگے ہیں اوریہ ان کے بنیادی تمیز و تمدن میں شامل ہے۔

جاپان کی طرف سے سارک ممالک کے لیے ’جینیسس 2019 پروگرام‘ کے پیش نظرجب سب سے پہلے دن جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پہنچے تو ایئرپورٹ پر ہی ان سے اصول اور قانون سے متعلق آگاہی مل گئی تھی، جس پر وہ سمجھوتہ نہیں کرتے۔ جاپان میں قطار تو ایسے بنتی ہے جیسے کوئی ہدایت دے رہا ہو۔ لیکن درحقیقت کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا اور خودبخود کسی بھی کام کو سہل بنانے کےلیے جاپانی قطار در قطار کھڑے ہوجاتے ہیں۔

جب شہرمیں داخل ہوئے تو چاروں طرٖف دیکھ کر اس سوچ میں پڑگئے کہ کیا سڑکیں ابھی ابھی بنی ہیں یا بڑی بڑی عمارتوں کو دھویا گیا ہے یا پھر بڑے بڑے پراجیکٹس یعنی اپارٹمنٹ سمیت عمارتیں اتنی صاف ہیں کہ شاید وہ غیر آباد ہیں۔ خیر آگے چلتے گئے اور جاپان کو براہ راست دیکھ کر اس کے بارے میں مزید جانتے گئے۔

بہت سی چیزوں سے آغاز میں ہی متاثر ہوگئے تھے لیکن جب ہوٹل پہنچے تو سب سے پہلے جس چیز سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ باتھ رومز تھے۔ ہائی ٹیکنالوجی کی بہترین مثال وہ باتھ رومز جہاں سینسر اور ٹچ سسٹم موجود تھا، جو ہمیں نہ صرف جاپان کے شہروں بلکہ جاپان کے گاؤں میں بھی ملے۔ الغرض جاپان میں ہر جگہ وہی سسٹم میسر تھا۔ بات کی جائے گاؤں کی تو تصور کوئی اور ہی آتا ہے لیکن جاپان کے گاؤں جاکر یہ سوچنا پڑا کہ کیا واقعی یہ گاؤں ہے؟ کیونکہ وہاں کے گاؤں کسی بھی ترقی یافتہ شہر سے پیچھے نہیں۔

دورے کے دوران جب ہم مختلف مقامات پر گئے، جن میں میٹروپولیٹن بلڈنگ، ٹوکیو ٹاور، نانزن یونیورسٹی، نوہمی بوسائی کمپنی، شپو آرٹ ویلیج، ٹویوٹا پلانٹ، نگویا کیسل، زازین ٹیمپل، آئی چی کمپنی سمیت بہت سے مقامات شامل تھے، جہاں واقعی بہترین ایکسپوژر ہوا۔

مخلتف مقامات پر دورے کے دوران ہم بہت اچھی طرح اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ جاپانی اگر ترقی میں آگے ہیں تو وہ آگے ہونے کے حقدار بھی ہیں، کیونکہ وہ بلاشبہ بہت محنتی قوم ہے، جو اپنے کام کو بخوبی سر انجام دیتی ہے۔ البتہ کہیں کہیں اور خاص طور پر ٹویوٹا پلانٹ کے دورے کے دوران یہ گمان ہوا کہ جس طرح یہ کام کر رہے ہیں یہ واقعی انسان ہیں یا روبوٹ، جو کام کررہے ہوتے ہیں تو بس لگن اور پھرتی سے کام کرتے ہیں۔

ٹویوٹا پلانٹ کے دورے کے دوران جس بات نے حیرانگی میں مبتلا کیا وہ یہ کہ ’لیکسس‘ جیسی گاڑی جاپانی محض 17 گھنٹے میں تیار کرلیتے ہیں۔

بہت سی چیزوں کے ساتھ پہلے دن سے جو بات بہت اچھی طرح عیاں ہوگئی تھی وہ یہ کہ اگر وقت کی پابندی سیکھنی ہے تو جاپانیوں سے سیکھنی چاہیے جو منٹ تو بہت دور کی بات ہے سیکنڈ بھی لیٹ نہیں ہوتے اور اگر لیٹ ہو بھی جائیں تو معافی مانگنے سے نہیں کتراتے۔

دوسری چیز جس نے دل کو واقعی خوش کیا، وہ یہ تھا کہ وہاں نہ کوئی امیر دکھا اور نہ ہی کوئی غریب، سب ہی برابر تھے۔ البتہ کسی میں یہ بھی دلچسپی نہیں دکھائی دی کہ ’وہ آگے اور میں پیچھے‘ یا ’میں آگے اور وہ پیچھے‘۔

دورے کے دوران جس ایک مشکل کا سامنا رہا وہ تھا ابلاغ۔ جاپانیوں کو انگریزی نہیں آتی اور شاید وہ سیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ اس لیے مختلف مقامات پر ہمیں زبان کے باعث مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ایسی صورتحال میں ان کے پاس موجود گوگل ٹرانسلیٹر یا ترجمہ کرنے والی مشینیں کام آئیں، لیکن اس سے اکثر ابلاغ مشکل، تو کبھی سہل بھی ہوتا تھا۔

جاپان کےلیے جو ایک بڑا مسئلہ ہے، وہ ان کی آبادی میں کمی کا ہونا ہے۔ خاص طور پر ان کے پاس نوجوان نسل کا فقدان ہوگیا ہے، جس کو لے کر وہ پریشان ہیں اور انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر سے نوجوان آئیں اور وہیں کے ہوجائیں۔ جس کےلیے جلد ہی مختلف ممالک کےلیے امیگریشن کا بھی آغاز ہونے والا ہے۔

دورے کے دوران اس بات کا بھی یقین ہوا کہ جاپان مہنگا سہی لیکن چھٹیاں گزارنے کےلیے بہترین جگہ ہے۔ جہاں سیاحت کےلیے لاتعداد مقامات ہیں، جن سے سیاح 100 فیصد محظوظ ہوں گے۔

الغرض دل جوئی سے کام کرنا ہو یا وقت کی پابندی، دوسروں کی مدد ہو یا شائستہ انداز، ملک کے اثاثوں کی قدر ہو یا لوگوں کا احساس کرنا، صفائی ستھرائی پر یقین ہو یا ملک سے بے انتہا محبت، اپنی جاپانی زبان کا پرچار ہو یا ایسا بہت کچھ، وہ واقعی بہت آگے ہیں، جس کے وہ حقدار بھی ہیں۔