6

صوبائی حکومت کا کرپشن کے خاتمے میں نیب کے ساتھ تعاون خوش آئند ہے ، ڈی جی نیب بلوچستان فرما ن اللہ خان


کوئٹہ قومی احتساب بیورو بلوچستان نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید ا قبال کی منظوری کے بعد محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان کے رولز اینڈ ریگولیشنزاور ٹیکس کی وصولی کے ضابطہ کار کی بہتری کے حوالے سے باہمی اتفاق رائے کے بعد ترتیب دی گئی تجاویز وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو بھجوادی ہیں، صوبائی حکومت کی جانب سے رولز کی بہتری کے لئے مرتب تجاویز پر عمل در آمد سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان سے بچایا جا سکے گا۔نیب نیشنل اکاوئنٹی بیلیٹی آرڈنینس 1999 کی شق 33 c کے تحت صوبائی و وفاقی محکموں کے کرپشن کا سبب بننے والے رولز اینڈ ریگولیشن ، ضابطہ کار اور قوانین کے تفصیلی مطالعے اور غور و خوص کے بعد اصلاحات کے حوالے سے تجاویز دے سکتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کی متعدد ٹیمیں اس ضمن میں مختلف محکموں کے رولز میں بہتری کے لئے کام کر رہی ہیں۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان میں رولز اور قوانین میں ابہام اور کرپٹ عناصر کی قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے نیب بلوچستان نے کرپشن کا سبب بننے والے مبہم قوانین کی بہتری کے لئے NAO1999 کے تحت قومی ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ تندہی سے اصلاحات پر کام شروع کیا۔اس سلسلے میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران ، سابق ملازمین اور ٹیکس ایکسپرٹس کے ساتھ 23 میٹینز میں تمام پہلووں پر سیر حاصل گفتگو، تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد تجاویز کا مسودہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید ا قبال کو منظوری کے لئے بھجوایا گیا جس کی چیئر مین نیب نے منظوری دیتے ہوئے صوبے کی حکومت کو بھجوانے کی ہدایات جاری کیں۔ چیئرمین نیب کی منظوری اور متعلقہ محکمے کے افسران اور ایکسپرٹس کے اتفاق رائے کے بعد نیب بلوچستان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو عمل د ر آمد کے لئے تجاویز بھجوادی ہیں۔ڈی جی نیب بلوچستان فرمان اللہ خان نے اْمید ظاہر کی ہے کہ صوبائی حکومت کے تعاون سے مرتب کی گئی تجاویز پر عمل در آمدسے نا صرف قومی خزانے کو نا قابل تلافی نقصان سے بچایا جا سکے گا بلکہ کرپٹ عناصر کو کرپشن سے روکا جا سکے گا۔ انہوں نے اصلاحات کے سارے عمل میں صوبائی حکومت کی ذاتی دلچسپی اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیو رو دیگرمحکموں کے محکمانہ رولز اینڈ ریگولیشن کی بہتری کے لئے اپنی خدمات جاری رکھے گا۔ انہوں نیکہا کہ ان تجاویز پر عملدرآمد سے بدعنوانی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو ٹیکس سے متعلق سہولیات میسر ہو سکیں گی۔