8

مودی سرکار کو بھارت میں اقلیتوں کا وجود برداشت نہیں قاسم سوری


اسلام آباد ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہیاور گزشتہ 190دنوں سے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر کے معصوم شہریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت میں آرایس ایس پیروں کار برسرے اقتدار ہیں اور بھارت جو خود کو سیکولر اسٹیٹ کہلاتا ہے میں اقلیتیں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ غیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کو بھارت میں اقلیتوں کا وجود برداشت نہیں وہ پورے بھارت میں ہندو ازم چاہتی ہے اور اس نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار معروف بین الاقوامی واکر کھرل ذادہ کثرت رائے کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل الوادعی تقریب سے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کھرل ذادہ رائے نیوزی لینڈ میں کشمیریوں پر ہونے والے بربریت سے ا?گاہی کے لیے 5مارچ سے 15مارچ تک بلینٹن سے مسجد النورکرائس چرچ تک واک کریں گے۔ ڈپٹی اسپیکر نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی طویل لاک ڈاؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور جب بھی کشمیر میں کوئی حریت پسندشہید ہوتا ہے تو اسے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ی عوام نے گزشتہ 72سالوں سے جس بہادری اور جرات سے بھارتی مظالم کا مقابلہ کیا ہے اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کشمیری عوام کے عزم استقلال اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کا جش منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں بھارت کا مکرو چہرہ اور منفی سوچ سامنے آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر ی عوام پر کی ا?واز بن کر دنیا میں کشمیر ی عوام ہونے والیمظالم کو اْجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم سے ا?گاہی کے لیے کھرل ذادہ کثرت رائے کی جانب سے واک کے اہتمام کوسراہا۔ واک میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف احمد جواد اور دیگرپارلیمنٹرینز نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سیڈھائے جانے والے مظالم کو فوری طور پر بند کرانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کیلییاقدامات اْٹھانے کے لیے کہا۔اس موقع پر کھرل ذادہ کثرت رائینے نیوزی لینڈمیں واک کے اغراض و مقاصد سے ا?گاہ کرتے ہوئیکہا کہ وہ ایک سماجی کارکن ہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف وہ واک کیذریعے آگاہی مہم چلاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ افراد لاک ڈاؤن کی بدولت کسمپرسی کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں جنہیں اْجاگر کرنے کے لیے وہ نیوزی لینڈمیں ولٹین سے کرائس چرچ (مسجد النور) تک 500سو کلومیٹر طویل واک کریں گے۔ بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے صدر درواز تک واک کرکے کھرل ذادہ کثرت رائے کو نیوزی لینڈ کے لیے الوادع کیا اور اْن کی کامیابی کی دعا کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا