193

ایک دن دوست کی دکان پر بیٹھا تھا

ایک دن دوست کی دکان پر بیٹھا تھا اسی اثناء میں ایک ادھیڑ عمر کا شخص کسی کام سے دکان میں داخل ہوا جس کے ساتھ ایک چھوٹی بچی بھی تھی، ہم اپس میں مہو گفتگو ہوئے تو میرے دوست نے عادتاً پوچھا کہ کہاں سے ائے ہو، غالباً کوہاٹ کے کسی نواحی علاقے کا باشندہ تھا چونکہ ہماری گفتگو کسی خاص عنوان پر تھی تو اس شخص نے ہماری بات میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنا قصہ سنایا۔تو انکا قصہ سنئے۔۔!

میں کوہاٹ کے نواحی علاقے(میں نام بھول گیا) کا رہنے والا ہوں اور آج سے کئ سال پہلے میں گُردوں کے مرض میں مبتلا ہوا۔ چونکہ یہاں کوہاٹ میں علاج کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں تھا، تو میں نے اپنا علاج پشاور سے شروع کرلیا۔ تقریبا ہر ہفتے پشاور براستہ کوہاٹ جاتا اور وہاں ہسپتال میں دائلیسس کرواتا اور پھر واپس اتا۔ غریب آدمی کے لئے بیماری سے زیادہ تکلیف دہ سفری اخراجات ہوتے ہیں۔ بہرحال میں ایک دن ہسپتال میں ڈائلیسس کے انتظار میں تھا کہ اچانک ہسپتال میں ہل چل مچ گئ، ہسپتال کا عملہ بجلی کیطرح چاک و چوبند ہوگیا، میں ایک طرف اپنی باری کے انتظار میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں ایک جھمگٹے میں گھیرا ایک شخص مختلف مریضوں سے مل رہا ہے اور انکے حال احوال اور پریشانیاں پوچھ رہا ہے اور ساتھ میں ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر(غالباً ایم ایس) کو ان مریضوں کے مشکلات دور کرنے کا کہے جارہا ہے۔ اسی اثناء میں وہ میرے قریب آکر مجھ سے سلام دعا کی اور حال احوال کیبعد میری بیماری اور گاؤں کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ مجھے گردوں کی تکلیف ہے اور میں کوہاٹ کے نواحی علاقے سے ایا ہوں تو کافی حیرانگی کی کیفیت میں فوراً
مجھ سے پوچھا کہ کیا کوہاٹ کے کسی ہسپتال میں ڈائلیسس کی سہولت نہیں ہے؟ میں نے بتایا کہ نہیں صاحب، اگر ہوتی تو مجھ جیسے کئی غریب پسماندہ مریض یہاں بھلا کیوں آتے۔ میرے بتانے کی دیر تھی کہ ان کے چہرے پر میں نے عجیب پریشانی والی سی کیفیت دیکھی۔ فوراً اپنے کسی بندے کو ڈیٹیل نوٹ کرنے کا کہا اور میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اگلے ہفتے تمھیں یہاں انے کی ضرورت نہیں ہوگی تم کوہاٹ میں ہی اپنا علاج کروا کیا کرو گے یہ کہ کر اگے چلا گیا۔ میں حسب معمول وہاں سے لوٹا اور گھر ایا۔ چونکہ مجھے اس بات میں خاص دلچسپی اس لئے بھی نہیں تھی کہ ایسے کہنے کی باتیں روز کی جاتی ہیں۔ بہرحال میں اگلے ہفتے پھر پشاور چلا گیا، واپسی پر میری ملاقات کسی دوست سے ہوئی تو اس کے منہ مجھے پتا چلا کے لیاقت ہسپتال میں اب ڈائلیسسس کئے جاتے ہیں تمہیں اب پشاور جانے کی ضرورت نہیں۔ میرے ذہن و گمان میں فوراً اس شخص کے چہرے پر دیکھنے والے اصطراب و پریشان پر یقین ہوگیا تھا، اور میرے دل سے جو دعائیں نکلی اور جب میں نے یہ بات اپنے بوڑھی اماں اور گھر والوں کو بتائی تو انہوں نے جو دعائیں دی میں بیان نہیں کرسکتا۔
قصہ چونکہ میں نے مختصر کردیا،تو اس شخص نے بات مکمل کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا، جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ میں نے قدر تجسس سی کیفیت میں پوچھا کون تھا، جواب دیا۔۔۔ سید افتخار حسین شاہ صاحب۔۔

میری کیفیت شائد اپ کو اپنے مبائل کے اس سکرین پر نظر نا ائے، لیکن میرے اپنے گھر کے تقریباً دس بندے KUST یونیورسٹی سے گریجیوئٹ ہوئے ہیں۔ اور آج وہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی کی بنیادی سہولیات میں صحت و تعلیم سر فہرست ہیں، شاہ صاحب نے دونوں میں کوہاٹ کو خودکفیل بنایا اور ایسے بنایا کہ ائندہ نسلیں اس سے فیضیاب ہوتی رہینگی۔

میری ان سے دو تین ملاقاتیں رہیں، انتہائی نفیس انسان تھے۔ شاہ صاحب، ذاتی طور پر انہتائی پروفیشنل ، اصول پسند، صاف گو، ایماندار اور کھری طبیعت کے مالک تھے۔

کوہاٹ کی پہچان رہے، لیفٹینٹ جنرل رہے، گورنر رہے، سفیر رہے، جہاں رہے کوہاٹ کا فخر رہے، اگرچہ ہم بے قدر بے وفا طبیعت کے لوگ ہیں، لیکن جب بھی شاہ صاحب کا ذکر ہوتا ہے، ہم بحثیت کوہاٹی سینہ چوڑا کرکے فخر سے کہتے ہیں۔۔

“وہ ہمارے ہیں، ہمارے کوہاٹ کے ہیں۔“

شاہ صاحب۔! اللہ آپ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب کرے۔ آپ ہمارا فخر تھے، ہیں اور ہمیشہ رہنگے۔ انشاءاللہ