8

پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے آل پارٹیز کانفرنس، کورونا کیخلاف متفقہ قومی پالیسی کا مطالبہ

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ملک کی سیاسی قیادت نے کورونا وائرس کے درپیش چیلینج کا ایک قوم بن کر مقابلہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ عمران خان کو فقط اسلام آباد کے بجائے پورے ملک کا وزیراعظم بن کر اپنا کردار نبھانا ہوگا، مہلک وباء کی روک تھام کے لیے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو بحال کرنا حالات کا تقاضا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی پہلی آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کی، جبکہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف میاں شہباز شریف، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، بی این پی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل، جمیعت علماء اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری، ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے خالد مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری، نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ،  ایاز صادق، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ نے حصہ لیا۔

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، سینیٹر شیری رحمان، فرحت اللہ بابر اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی کانفرنس میں اپنے چیئرمین کے ہمراہ موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اس کانفرنس کے ذریعے قوم کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے اور متحد ہوکر اس مہلک بیماری کا مقابلہ کریں گے، یہ قدم وفاقی حکومت کو اٹھانا چاہیے تھا لیکن وہ ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نبھا رہے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ اس کانفرنس میں حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں بھی حصہ لے رہی ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں اور جب تک وفاق اس معاملے میں دلچسپی نہیں لیتا، ہم مطالبات کرتے اور آواز اٹھاتے رہیں گے۔

عمران خان کو اسلام آباد نہیں پورے ملک کا وزیراعظم بن کر کام کرنا ہوگا، بلاول

پی پی ہی چیئرمین نے کہا کہ عمران خان کو اسلام آباد نہیں، پورے ملک کا وزیراعظم بن کر اپنا کردار نبھانا ہوگا، صوبں کو وسائل فراہم کرنا ہوں گے، آنے والے دنوں میں عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انہیں روکنے کے لیے وفاقی حکومت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا پڑے گا۔ اس وقت کورونا وائرس کے خلاف متفقہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

وفاق کے تعاون کے بغیر کامیابی مشکل ہے، بلاول

بلاول نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے وباء کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سب نے سراہا ہے لیکن جب تک وفاق مکمل تعاون نہیں کرے گا، کامیابی ملنا مشکل ہے، ہمیں اس وقت ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر اکیوپمینٹس کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ڈاکٹرز اور نرسز کی حفاظت کے لیے بھی سامان کی ضرورت ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ اے پی سی میں شریک ہونے والی جماعتوں کے شکر گزار ہیں، جن کی شرکت سے واضح ہے کہ ہم سب مل جل کر اس مہلک بیماری کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

بقیہ صوبے بھی اب سندھ کو دیکھ کر اقدامات اٹھا رہے ہیں، شہباز شریف

قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے صوبے میں بروقت اقدامات اٹھائے، اب دوسرے صوبے بھی سندھ حکومت کے دیکھا دیکھی اقدامات اٹھا رہے ہیں، اس وقت پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک قومی پالیسی بنائی جائے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ حکومت کو کورونا وائرس پر نیشنل ایکشن پلان کی طرز پرتمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک قومی پالیسی بنانا چاہیے تھی۔

بلوچستان میں قائم سینٹرز مہاجرین کی بستی لگ رہے تھے، اختر مینگل

سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں جو سینٹر قائم کیے گئے وہ کورنٹائن سینٹر نہیں کوئی مہاجرین کی بستی لگ رہی تھی۔

تفتان واقعے کو قومی جرم قرار دیتا ہوں، حاصل بزنجو

سینیٹر میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ میں تفتان واقعہ کو قومی جرم قرار دیتا ہوں۔

کورونا وائرس کا مقابلہ سیلف آئسولیشن اور لاک ڈاؤن ہی ہے، ایم کیو ایم

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا مقابلہ سیلف آئسولیشن اور لاک ڈاؤن ہی ہے، تمام سیاسی و علاقائی مفادات سے ہٹ کر ہمیں لڑنا ہوگا۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر مساجد میں اجتماعات کو روکنے کے لیے مدد لی جائے۔

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاوَ نے حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بروقت اقدامات اٹھائے، وفاقی حکومت صوبوں کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کریں۔

دریں اثناء وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور ڈاکٹر باری نے اے پی سی کے شرکاء کو بریفنگ دی۔