29

پہلی مرتبہ چاند کا تفصیلی ارضیاتی نقشہ تیار

واشنگٹن: امریکی ماہرینِ ارضیات نےچاند کا پہلا مکمل ارضیاتی نقشہ تیار کرلیا ہے جس میں چاند پر بھیجے گئے اپالو مشن کے ڈیٹا سے بطورِ خاص استفادہ کیا گیا ہے۔

یونائیٹڈ اسٹیٹس جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) ، ناسا اور لیونر پلانیٹری سوسائٹی نے مشترکہ طور پرایک طویل عرصے تک کام کرکے یہ نقشہ تیار کیا ہے۔ ساڑھے چار ارب برس قدیم زمین کے قدرتی سیارے پر ماضی میں ہر طرح کے پتھر ٹکراتے رہے ہیں جس سے چاند پر گہرے گڑھے اور غار نما ساختیں بنیں جو مطالعے کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں۔ نقشہ سازی کے لیے اپالو کے چھ مشن اور سیٹلائٹ سے ڈیٹا اور تصاویر کو شامل کیا گیا ہے۔

نقشے کی تفصیل کا اندازہ کچھ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ جو ڈیٹا سیٹ استعمال کئے گئے ہیں ان کی بدولت چھوٹے سے چھوٹے گڑھے (کریٹر) اور وہاں موجود تمام اقسام کی چٹانوں کی تفصیل اور ان کی عمر بھی شامل کی گئی ہے۔ اس نقشے میں وہ علاقہ گلابی دکھایا گیا ہے جہاں بار بار انسانی قدم یا نظر پہنچی ہے۔

ماہرین نے بڑی محنت سے چاند کی ساری تفصیلات کو جمع کرکے ارضیاتی نقشہ بنایا ہے جسے ’مشترکہ قمری نقشے‘  کا نام دیا گیا ہے۔ یوایس جی ایس کے سربراہ جِم ریئلی نے بتایا کہ لوگ ہمیشہ سے ہی چاند سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اب وہاں دوبارہ قدم رکھنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ نقشہ پوری دنیا کے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا۔

دوسری جانب اسی ادارے کے سینیئر ارضیات داں کورے فورٹیزو کہتے ہیں کہ ارضیاتی نقشے کی پشت پر کئی عشروں کی محنت ہے۔ چاند پر اگلی مہمات اور منصوبوں کے لیے اس سے بہت مدد مل سکتی ہے۔