7

عمران خان کے سِوا ہرجماعت ڈکٹیٹر کے دور کا حصہ رہ چکی ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد: 

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کسی بھی مارشل لاء کا حصہ نہیں رہے جبکہ اپوزیشن کی ہر جماعت ڈکٹیٹر کے دور کا حصہ رہ چکی ہے۔

قطری نیوز چینل الجریزہ انگلش کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنا لوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کا عدلیہ اور عسکری اداروں سمیت ہر ایک سے اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کی فوج وہی کردار ادا کر رہی جو کہ حکومت اور کیبنٹ چاہتی ہے، حکومت اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کس ملکی ادارے کا پاکستان کی ترقی میں کتنا کردار ہوگا، حکومت ہم آہنگی کے ساتھ تمام اداروں کے ساتھ کام کررہی ہے اور اپوزیشن کو یہ گوارا نہیں ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے متعدد بار انتخابات میں حصہ لیا اور ناکام رہے لیکن 22 سالہ سیاسی جدو جہد کے بعد انہیں کامیابی ملی اور وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے، عمران خان کسی بھی مارشل لاء کا حصہ نہیں رہے جبکہ اپوزیشن کی ہر جماعت ڈکٹیٹر کے دور کا حصہ رہ چکی ہے، پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا جنم مارشل لاء کی گود سے ہوا۔ کوئی بھی اپوزیشن لیڈر عمران خان کے جتنی عوامی مقبولیت رکھنے کا دعوی نہیں کر سکتا، وہ نا صرف آج بلکہ دو سال قبل انتخابات کے وقت بھی ملک کے سب سے زیادہ معروف لیڈر تھے، عمران خان کو ووٹ کے ذریعے عوام نے وزیر اعظم بنایا ہے نہ کہ کسی ملکی ادارے نے، ہمیں کسی اور نے نہیں بلکہ عوام نے منتخب کیا ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک پاکستان کیلئے اب تک کا سب سے اہم ترین منصوبہ ہے جو تیزی سے جاری ہے، بھارت مسلسل سی پیک میں مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، بھارت اس وقت دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سےبڑا اسپانسر ہے۔ ہماری معیشت کی بحالی کیلئے سی پیک اہم ہے اور اس منصوبے کا سیکیورٹی اینگل ہے جس کی وجہ سے اس منصوبے کو محفوظ بنانے کیلئے ہمیں ملٹری کی معاونت درکار ہے، پاکستانی افواج سی پیک منصوبے کی سیکورٹی کیلئے اور اسکی تکمیل کیلئے اپنا کردار باخوبی نبھا رہی ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے سے ہی افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے پیش کرنے کا مشورہ دیا تھا اور حکومت سنبھالتے ہی ان کا یہی کہنا تھا کہ مسئلہ افغنستان کا کوئی ملٹری حل نہیں اور پاکستان نے امریکا کی مدد کی، امریکی صدر نے بھی مسئلہ افغانستان کو حل کرنے کیلئے عمران خان کی تجویز پر غور کیا، اب حکومت اور عسکری قیادت مل کر افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑ ھا رہی ہے۔

علاوہ ازیں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا مقصد ہے کہ مینوفیکچرر انہیں بنانا شروع کرے،  حکومت ہر وقت ڈنڈا لے کر کھڑی نہیں ہو سکتی، ادویات کی قیمتوں میں 15،20 سال سے اضافہ نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف نے اپنے دور میں ہرجرنیل سے لڑائی کی، وہ آج بھی ڈیلیں تلاش کرتے پھر رہے ہیں، ان کا کردار وہی ہے جو ایم کیو ایم کی قیادت کا تھا، جوڈیشری ہم پر بھی تنقید کرتی ہے، لیکن ہم تو ری ایکٹ نہیں کرتے، شہبازشریف کو عدالتوں نے گرفتار کرنا ہے، انہیں گلگت بلتستان میں کوئی نہیں جانتا، نون لیگ کی سیاست اس وقت گرداب میں آئی ہوئی ہے، انہیں سمجھ نہیں آ رہی اس میں سے نکلنا کیسے ہے، یہ جماعتیں ان عناصر سے جان چھڑائیں جن کی وجہ سے ان پر اور ملک پر مصیبتیں آئی ہوئی ہیں، نون لیگ میں سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے کہ قیادت کس کے پاس ہونی چاہیے، امید ہے ایک نئی نون لیگ وجود میں آئے گی۔