11

وہ دور ختم ہوا جب حکومت کے گناہ معاف اور اپوزیشن کو بغیر گناہ سزا ملتی تھی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کا موٹروے زیادتی کیس کی کوریج پر پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ حق معلومات کے تحت عوام کو آگاہی سے نہیں روکا جاسکتا، میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو ایسا نہیں چلے گا۔

چیف جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے پیمرا کا نوٹفکیشن معطل کرنے کا حکم سنایا۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاسم خان نے سرکاری وکلاء کو روسٹرم پر بلالیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ پیمرا کا معاملہ ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے حکم پر پیمرا نے موٹروے ریپ کیس کی کوریج پر پابندی لگا دی ہے جو آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے، انسداد دہشتگری اور پیمرا کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ میڈیا مقدمہ کی کارروائی سے متعلق رپورٹنگ کرسکتا ہے،رائٹ آف انفارمیشن کے تحت عوام کو آگاہی سے نہیں روکا جاسکتا، میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو ایسا نہیں چلے گا۔

جسٹس قاسم خان نے ہدایت کی کہ میڈیا ملزم اور متاثرہ افراد کے خاندان کی تصاویر نہیں چلائے گا۔ انہوں نے حکم دیا کہ ملزم عابد کی گرفتاری سے متعلق میڈیا پر وزراء اور مشیروں کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیش کریں۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ قاسم خان کا مزید کہنا تھا کہ جب پیمرا نے پابندی لگائی تھی تو وزرا اور مشیروں کی تقریریں کیوں نشر ہوئیں، وہ دور ختم ہوگیا جب حکومت کے سارے گناہ معاف اور اپوزیشن کو بغیر گناہ کے سزا ملتی تھی، ملزمان اور مدعی کی میڈیا پر تصاویر نشر کی نہ جائیں، چیف جسٹس قاسم خان نے درخواست نمٹا دی۔