36

دورہ نیوزی لینڈ؛ کھلاڑی ’’فائیو اسٹار‘‘ ماحول کو ترس گئے

کراچی: دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی کھلاڑی ’’فائیو اسٹار‘‘ ماحول کو ترس گئے جب کہ ملک میں بادشاہوں والی زندگی گذارنے والے اسٹارز کے کمروں کی بھی 11 دن سے صفائی نہیں ہوئی۔

پاکستانی کرکٹرز کرائسٹ چرچ میں 11 دن سے قید تنہائی کاٹ رہے ہیں، انھیں مزید 2 دن آئسولیشن میں رہنا ہوگا،اتوارکو ایک اورکورونا ٹیسٹ لیا جائے گا جس میں تمام کلیئر ہو گئے تومنگل کو پابندیوں سے آزادی ملنے کا امکان ہے،البتہ اس سے قبل ہر رکن کو انفرادی طور پر نیوزی لینڈ کی وزارت صحت سے کلیئرنس درکار ہوگی۔

کرکٹرز عام طور پرفائیو اسٹار سہولتوں کے عادی ہوتے ہیں ملک اور بیرون ملک انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے،بڑے ہوٹلز میں قیام کرتے اور کوئی کام خود نہیں کرنا پڑتا ہے، البتہ نیوزی لینڈ میں حالات ایسے نہیں ہیں، گو کہ قیام تو اچھے ہوٹل میں ہے مگر وہ ان دنوں قرنطینہ مرکز بن چکا اور فوج کی زیرنگرانی ہے۔ٹیم ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ 11 دنوں میں کھلاڑیوں کے کمروں میں کوئی داخل نہیں ہوا، بیڈ شیٹس تک تبدیل نہیں ہوئی ہیں، عموماً ہوٹل میں روزانہ ہی انھیں تبدیل کیا جاتا ہے، کمروں نہ ہی واش رومز کی صفائی ہوئی، کھلاڑی تولیہ استعمال کرکے بیگز میں کمرے کے باہر رکھ دیتے ہیں، اسی طرح باہر دھلے ہوئے تولیے رکھ دیے جاتے ہیں۔

آمد کے بعد پلیئرز کو مہذب انداز میں باقاعدہ ٹرے میں پلیٹوں کے ساتھ کھانا پیش کیا مگر جب مثبت کورونا ٹیسٹ آئے تو اگلے روز سے ہی ڈبوں میں کھانا دیا جانے لگا،پہلے دن ہی یہ الزام لگا تھا کہ کھلاڑیوں نے کھانے کی ٹرے اٹھانے کیلیے جب دروازہ کھولا تو ماسک نہیں پہنا ہوا تھا،اس دوران دوسرے کمروں کے دروازوں پر کھڑے ساتھیوں سے بھی انھوں نے بات چیت کی۔

ٹیم ذرائع یہ کہتے ہیں کہ آنے سے پہلے جو ایس او پیز بتائے گئے اس میں کھانا وصول کرتے ہوئے ماسک پہننے والی بات شامل نہ تھی، ساتھیوں سے بات کرتے وقت بھی کافی فاصلہ تھا مگر جب بتایا گیا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے تب سے مکمل احتیاط برت رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی ٹیم کی مشکلات سے بخوبی آگاہ اور نیوزی لینڈ کرکٹ سے بھی بات کی مگر انھوں نے حکومت کے سامنے ہاتھ بندھے ہونے کا جواز دے دیا، بورڈ حکام نے کوچ مصباح الحق اور کپتان بابر اعظم سے دورہ جاری رکھنے کے حوالے سے ضرور پوچھا البتہ دیگر کھلاڑیوں سے کوئی فیڈ بیک نہیں لیا گیا، نہ ہی ٹیم آفیشلز نے کوئی رائے لی، گوکہ کھلاڑی ان سختیوں سے سخت مایوس ہیں البتہ وہ سیریز کی منسوخی کے حق میں بھی نہیں لگتے۔

بیشتر کی رائے ہے کہ جہاں اتنے دن گذار لیے مزید2،3 روز بھی نکل ہی جائیں گے، یاد رہے کہ پاکستانی اسکواڈ کے 44 ارکان کی چوتھی ٹیسٹنگ میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے انھیں گروپس میں ٹریننگ کی اجازت نہیں دی۔

ٹیم میں اب بھی چند ایکٹیو کیسز موجود ہیں جب تک وہ کلیئر نہیں ہوتے کوئی سہولت ملنے کا امکان نہیں ہے، البتہ مینجمنٹ کو یقین ہے کہ اگلی ٹیسٹنگ میں کوئی بھی رکن کورونا کا شکار نہیں ہو گا، یوں 14روزہ آئسولیشن مکمل ہونے کے بعد ٹیم نہ صرف ٹریننگ بلکہ گھومنے پھرنے کیلیے بھی آزاد ہوگی۔

موجودہ پلان کے تحت اسکواڈ منگل کوکوئنز ٹاؤن روانہ ہو گا،وہاں قومی کرکٹ ٹیم اور شاہینز الگ ہوٹلز میں قیام کرینگے، پریکٹس میچز کے بعد شاہینز14 دسمبر کو وانگرائے اور قومی اسکواڈ اگلے روز آکلینڈ روانہ ہوگا،پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی 18دسمبر کو شیڈول ہے۔