67

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز، 18 رکنی قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان

لاہور: نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے18 رکنی قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے۔

دونوں ٹیموں کے مابین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے تین میچز 18، 20اور 22 دسمبر کو بالترتیب آکلینڈ، ہملٹن اور نیپئر میں کھیلے جائیں گے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان بابراعظم نے پاکستان شاہینز کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد کی مشاورت کے بعد اسکواڈزکو حتمی شکل دی۔ 17 دسمبر سے وانگرائے میں نیوزی لینڈ اے کے خلاف شروع ہونے والے چار روزہ میچ کے لیے پاکستان شاہینز کے 16 رکنی اسکواڈ کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔نیوزی لینڈ کے خلاف اعلان کردہ 18 رکنی قومی کرکٹ ٹیم میں تجربہ کار وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد اور حسین طلعت کی واپسی ہوئی ہے۔ زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ہوم سیریز میں قومی اسکواڈ کا حصہ رہنے والے روحیل نذیر،فخر زمان اور ظفر گوہر کو نیوزی لینڈ کے خلاف قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔

روحیل نذیر اور ظفر گوہر نیوزی لینڈ اے کے خلاف پاکستان شاہینز کی نمائندگی کریں گے جب کہ تیز بخار کی وجہ سےنیوزی لینڈ کے لیے سفر نہ کرنے والے فخر زمان پہلے ہی ٹور سے آؤٹ ہوچکے۔ دوسری جانب شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی، زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز کے لیے قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ تو تھے مگر ان دونوں کھلاڑیوں نے سیریز کا ایک بھی میچ نہیں کھیلا تھا۔ٹی ٹوئنٹی سیریز کے اختتام پر عماد وسیم اور محمد حفیظ کو اسکواڈ سے ریلیز کردیا جائے گا۔ عماد وسیم 23 دسمبر کوبگ بیش لیگ کھیلنے آسٹریلیا جب کہ محمد حفیظ 24 دسمبر کو وطن واپس روانہ ہوجائیں گے۔

مصباح الحق، ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم:

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ مشکل حالات میں صبر اور برداشت کا بہترین مظاہرہ کرنے والے ان تمام کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے کوویڈ 19 کی عالمی وباء کے دوران کرکٹ کی سرگرمیوں کی بحالی میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

مصباح الحق نے کہا کہ دنیا کے ہر مایہ ناز ایتھلیٹ کو اپنے ملک کی نمائندگی سے قبل ایک مخصوص ماحول درکار ہوتا ہے کہ جہاں وہ کھیل کے آغاز سے قبل اپنی تیاری مکمل کرسکے، ہم عوام کی صحت اور حفاظت کے لیے بنائے گئے نیوزی لینڈ کے قوانین کا مکمل احترام کرتے ہیں تاہم ایسے میں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بعض قواعد و ضوابط کے نفاذ نے ہمارے کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طورپر متاثر کیا ہے۔

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں ایک مضبوط ٹیم ہے اور حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ٹیسٹ کی دوسری اور ٹی ٹوئنٹی کی چھٹی بہترین ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام کھلاڑیوں کے پیچھے کھڑے ہیں اور ہم ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے،  ان کھلاڑیوں کوبھی اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد اور یقین کرنا ہوگا۔

اُدھر قومی ٹیسٹ کرکٹرز یا وہ کھلاڑی جو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں وہ  اس دوران پاکستان شاہینز کو جوائن کرلیں گے، جہاں وہ نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کے لیے تیاری کا آغاز کریں گے۔ٹیسٹ سیریز کا آغاز 26 دسمبر سے ہوگا۔

اعجاز احمد، ہیڈ کوچ پاکستان شاہینز:

پاکستان شاہینز کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف واحد چار روزہ میچ اورپھر اس سے قبل متعدد پریکٹس سیشنز اور انٹرا  اسکواڈ پریکٹس میچ کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینے کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ کے  خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی ٹیسٹ کرکٹرز کی تیاری میں ان کی بھرپور معاونت بھی کرنا ہے۔